غربت،جوتے اورکھانا گھر

غربت کے ہاتھوں  میں  کبھی اخلاقیات کی کتاب نہیں ہوتی کیونکہ یہ ہاتھ دوسروں  کے آگے پھیلے ہوتے ہیں  خالی ہوں تو کوئی کتاب تھامیں  یادعا کیلئے اٹھیں  ۔ غربت کاکوئی مذہب نہیں ہوتا کہ وہ اسی دنیا میں  جہنم آشنا ہوجاتی ہے تو پھر باقی کون سا ڈر رہ جاتاہے۔ مجھ پر ہمیشہ اللہ کافضل رہا ہے اور میں غربت کے ذائقے سے ناآشنا ہوں  غریب نہیں رہا لیکن غریب ہونے کی اداکاری ضرور کی ہے۔ وہ جوکہتے ہیں  کہ جسے تن لاگے سو تن جانے ۔ تو اگر آپ کبھی غربت کی قربت میں  نہیں رہے تو آپ کیسے جان سکتے ہیں  کہ ایک بھوکے تن پر کیا گزرتی ہے میں  بھی جان تو نہیں سکتا لیکن میں  دیکھ تو سکتاہوں  پچھلے دنوں  میں  نے ایسی دو تصویریں اخباروں  میں دیکھیں ۔ پشاور کاکوئی تنور ہے جس کے آگے زمین پر درجنوں  عورتیں  بیشتر برقعہ پوش بیٹھی ہیں  اورایک ایسے شخص کی جانب دیکھ رہی ہیں  جس کے آگے روٹیوں  کا ایک ڈھیر ہے وہ اپنی باری کاانتظار کررہی ہیں  انہیں  یہاں  سے مفت میں  دو روٹیاں  ملنے کی امید ہے کسی”مخیر” شخص نے ان کیلئے یہ بندوبست کررکھا ہے وہ صرف دو روٹیوں  کے لیے جانے کب سے زمین پربیٹھی ہیں  جب روٹیوں  کی تقسیم ہوگی تو وہ اس شخص کے آگے ہاتھ پھیلائیں گی۔ صرف دو روٹیوں  کیلئے۔ دوسری تصویرمیں  شاید کراچی کے آس پاس کوئی ڈھابا ہے یہاں  لوگ کھانا کھارہے ہیں  اور ان کے قریب دو تین درجن لوگ جن میں  عورتیں  بھی شامل ہیں  ایک قطار میں بیٹھے ہیں  کوئی ایک “مخیر” شخص کار سے اترتا ہے اورڈھابے کے مالک کوکچھ رقم ادا کرکے کہتاہے کہ میری طرف سے ان بھوکے لوگوں  میں سے پانچ لوگوں  کو کھانا کھلادو ۔ان پانچ خوش قسمت لوگوں  کی باچھیں  کھل جاتی ہیں  اوروہ اس مہربان شخص کے لیے دعائیں  کرتے ہیں  جوان کے کھانے کیلئے ادائیگی کرکے اپنی کار میں  سوار ہوکر جارہاہے مجھے یقین ہے وہ شخص بے حد مطمئن اورقدرے تکبر محسوس کررہاہوگا کہ میں  نے اپنے طور پر پانچ بھوکے لوگوں  کوکھانا کھلایا ہے یہ جو لوگ قطار میں بیٹھے ہیں  تو جانے کب کے بیٹھے ہیں  اور عین ممکن ہے کہ وہ سارا دن بیٹھے رہیں اور کوئی”مخیر” شخص نہ آئے۔ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ کراچی کے نواح میں  جو ڈھابے ہیں  وہاں  یہی دستور ہے نادار لوگ ایک قطار بنا کربیٹھ جاتے ہیں  اورکسی مخیر شخص کاانتظار کرتے ہیں  گمان ہے کہ وہ نماز کیلئے بھی اپنی قطار میں سے نہیں اٹھتے ہوں گے۔ البتہ جن عورتوں  کے بچے ہیں  وہ ادھر ادھر کھیلتے رہتے ہیں  جب تک کہ ان کی ماں  کی باری نہ آجائے اور اسے دوروٹیاں  اورکچھ سالن نہ مل جائے۔
کیا میں  یہ جان سکتاہوں  کہ اس قطار میں  بیٹھے ہوئے ،زمین پر بیٹھے ہوئے دو روٹیوں  کے منتظر شخص پر کیا گزرتی ہے اگرچہ اب اس پر کچھ بھی نہیں گزرتی وہ غربت اور بھوک کے ہاتھوں  ڈھیٹ ہوچکا ہے ،بے حس  ہوچکا ہے  البتہ میں  یہ جان سکتاہوں  کہ اس “مخیر” شخص پر کیا گزرتی ہوگی۔ اس کا ضمیر مطمئن ہوگا اور وہ چین کی نیند سوئے گا بہت عرصہ پہلے میں  نے کرشن چندر کاایک افسانہ پڑھا تھا نام یاد نہیں  البتہ اس کی کہانی کچھ کچھ یاد ہے ممبئی کاایک متمول سیٹھ ہے جسے ایک روز خیال آتا ہے کہ اس کے پاس اتنی دولت جمع ہے تو اسے غریبوں  کی مدد کرنی چاہیے۔ وہ اپنے منشی کوبلاتا ہے اوراس سے کہتا ہے کہ میرا دل غریبوں  کیلئے خون کے آنسو روتا ہے اور میں  ان کی مدد کرناچاہتا ہوں  لیکن میری سمجھ میں  یہ نہیں  آتا کہ ان کی مدد کیسے کروں  بازاروں  میں  نکلوں ، کچی بستیوں  میں  جا کر غریب تلاش کروں  کیا کروں  تم ہی کوئی طریقہ بتاؤ میں  غریبوں  کی مدد کرنے کیلئے مرا جارہا ہوں  منشی خاصی سوچ بچار کے بعد مختلف طریقے پیش کرتا ہے اوربالآخر فیصلہ ہوتاہے کہ یہ اعلان کردیاجائے کہ سیٹھ فلاں  غریبوں  کی مدد کرناچاہتے ہیں  اس لیے جتنے بھی غریب ہیں  وہ ان کے ہاں  آئیں  اورانہیں پانچ سو روپے فی کس کے حساب سے امداد دی جائے گی البتہ منشی صاحب ایک دور کی کوڑی لاتے ہیں اورکہتے ہیں  کہ سیٹھ صاحب یوں تو ہرشخص اپنے آپ کوغریب قرار دے کرآپ سے امداد لینے آجائے گا اس لیے کوئی ایسا طریقہ ،کوئی ایسا ٹیسٹ ہونا چاہیے جو یہ ثابت کردے کہ مدد کی درخواست کرنے والا واقعی ایک غریب ہے اس مسئلے کویوں  حل کیاگیا کہ ایک غریب کی کوئی عزت نفس نہیں ہوتی، وہ دو روٹیوں  کیلئے کڑی دھوپ میں پہروں  بیٹھ سکتاہے اس لیے شرط یہ لگائی جائے کہ جو بھی آئے اسے اپنے آپ کوغریب ثابت کرنے کیلئے بیس جوتے کھانے پڑیں گے۔ جوغریب نہیں  ہوں  گے وہ یہ شرط قبول نہیں  کریں  گے چنانچہ اعلان کردیاجاتا ہے کہ اگر آپ غریب ہیں تو سیٹھ صاحب کے ہاں  آئیں  صرف بیس جوتے کھائیں  اورپانچ سو روپے لے جائیں  چنانچہ جوق درجوق غریب آنے لگتے ہیں  اورجوتے کھانے لگتے ہیں  اتنا ہجوم ہوجاتاہے کہ جوتے لگانے کیلئے مزید سٹاف بھرتی کیاجاتا ہے بوڑھے عورتیں  اورکبڑے ہوچکے بوڑھے آتے ہیں  اورمنت کرتے ہیں  کہ بیٹا ہمیں  جوتے لگاؤ یہاں  تک کہ جوتے کم پڑ جاتے ہیں  جوتوں  کی دکانیں  خالی ہوجاتی ہیں  جبکہ جوتے کھانے کے آرزومند اتنے ہوتے ہیں  کہ پولیس کولاٹھی چارج کرنا پڑتا ہے اورمخیر سیٹھ غریبوں  کی مدد کرتا رہتاہے۔
 لہذا ایسی اس امداد کے خواہش مند غریب حضرات کوچاہیے کہ وہ یہ پتہ کرلیں  کہ انہیں اپنے آپ کوغریب کوثابت کرنے کیلئے کیا کرنا پڑے گا۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی ویژن میں ایک ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے جوغریبوں  کی حالت پر بہت کڑھتے تھے وہ انہیں  غربت کے عالم میں  دیکھ   نہیں سکتے تھے ان کے بارے میں  کہا جاتا تھا کہ اگر آپ ان کے ہمراہ پیدل جارہے ہیں  اور راستے میں  کوئی لاچار فقیر بیٹھا ہوا ہے تو وہ فوراً آبدیدہ ہوجاتے تھے کہ ہائے ہائے یہ بے چارہ کتنا غریب ہے ۔جانے کب سے بھوکا بیٹھا ہے جانے اس کے بچوں کا کیا حال ہوگا تارڑ صاحب مجھ سے تو دیکھا نہیں جاتا آپ یوں  کریں  کہ اسے میری طرف سے دس روپے دے دیں ۔
البتہ میں  نے چند روز پیشتر ایک نجی چینل پرایک ایسی رپورٹ دیکھی جس نے مجھے ایک عجیب سی مسرت اورطمانیت سے سرشار کردیا کراچی کی ایک خدا کی بستی میں ایک خاتون نے اپنی ہمت سے اورکچھ دوستوں  کے تعاون سے ایک کچا”کھانا گھر” قائم کیاہے ان سادہ سی گھریلو خاتون نے ماسٹرز کررکھاہے اورایک کچے تھڑے پربیٹھ کریہ گھر چلاتی ہیں  یہاں اس بستی کے غریب اور کم آمدنی والے لوگ آتے ہیں  بیکار فرد اوربوڑھے اوربچے آتے ہیں  اورانہیں دو روپے کے عوض دو گرم گرم روٹیاں  اورسالن کی ایک پلیٹ مہیا کی جاتی ہے روزانہ دو سو کے لگ بھگ “گاہک” آتے ہیں  جن میں سے بیشتر چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں  ان خاتون کاکہنا تھا کہ وہ شہر کے تمام  پسماندہ علاقوں  میں ایسے کھانا گھر قائم کرنا چاہتی ہیں  اوراگر ہوسکے تو پورے پاکستان میں  لیکن ان کے پاس اتنے ذرائع نہیں ہیں  اوروہ کیا تھا جس نے مجھے مسرت سے ہمکنار کیا؟ خاتون سے پوچھاگیا کہ آپ ان نادار لوگوں  سے دو روپے کیوں  وصول کرتی ہیں  انہیں کھانا مفت کیوں  نہیں  مہیا کردیتیں  تو اس فرشتہ خصلت نے کہا میں صرف دو روپے اس لیے وصول کرتی ہوں  تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو وہ اپنے آپ کوفقیر نہ سمجھیں  کیا ہمارے “مخیر” حضرات میں سے کوئی ایسا ہے جوگمنام رہ کراس خاتون کوایک اور “کھاناگھر” قائم کرنے میں مدد دے؟

Tarar Namaa1

کتاب سے دوسری تحریریں:

صبح کی سیر کے دوران میرے ساتھ ٹریک پرچلنے والے اوربعد میں پلاسٹک کی کرسیوں  پر استراحت فرمانے والے جتنے بھی ساتھی ہیں  وہ قابل ۔۔۔
تو میں  ایک ناگوار بیزاری کی حالت میں  ازاربند اڑھستا،سلیپر گھسیٹتا باہر آیا کہ شاید ڈاکیہ تھا یا کوئی فقیر… گیٹ کھولا تو سامنے عینی ۔۔۔