آندھیوں میں چراغ

صبح کی سیر کے دوران میرے ساتھ ٹریک پرچلنے والے اوربعد میں پلاسٹک کی کرسیوں  پر استراحت فرمانے والے جتنے بھی ساتھی ہیں  وہ قابل فہم طورپر سیاست اور مذہب کے حوالے سے اپنا اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں  جس کااظہار وہاں  تک جائز ٹھہرتا ہے جہاں  تک کہ دوسرے کے نظریات کوٹھیس نہ پہنچے۔ ان میں شاہ صاحب ہیں  جوسیاست کے بارے میں  جب پہلی بات ہوتی ہے تو اٹھ کھڑے ہوتے ہیں  کہ لو جی چوہدری صاحب ہم یہاں  ایک خوشگوار دن کے آغاز کیلئے صبح سویرے آتے ہیں  سیاست کی باتیں  کرنے نہیں آتے۔ تو میں چلتا ہوں  پھر خان صاحب ہیں  جو سیر کیلئے آتے  ہی اس لیے ہیں  تاکہ تازہ ترین صورتحال کے بارے میں  تبادلہ خیال کیاجائے۔ کچھ دوست لطیفوں  کے بادشاہ ہیں  تو کچھ اوردوست شعروشاعری کے رسیا لیکن عام طورپر سیاست سے پرہیز کی جاتی ہے۔ مثلاً مجھے صبح سویرے سیاست پرگفتگو کرنا وقت اورصبح کی تازہ ہوا کی بے عزتی کرنا لگتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ سیر کے دوران دوسری جانب سے آنے والے کوئی نہ کوئی صاحب میری جانب کوئی فقرہ پھینک جاتے ہیں ۔مثلاً تارڑ صاحب اب تو خوش ہوناں ۔ یاتارڑ صاحب مروادیا ہے ناں ۔ لیکن  اس اتوار کی صبح کوپارک میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ اکثر لوگ سرجھکائے چل رہے تھے جیسے ایک دوسرے سے ناراض ہوں  چونکہ پچھلی شب پاکستان کوایک مرتبہ پھر بچانے کی خاطر ایمرجنسی  کانفاذ کردیا گیا تھا اس لیے مجھے توقع تھی کہ آج تو پارک میں ایک شور بپا ہوگا بحثیں  ہورہی ہوں گی اوراحتجاج  ہو رہا ہوگا لیکن وہاں  تو ایک سناٹا تھا لوگ چپ تھے میں  بھی اپنے آپ کومطعون کررہا تھا کہ مجھ پر اس ایمرجنسی کاکچھ اثر نہ ہوا تھا اور نہ ہی مجھے پاکستان کی سلامتی کی کچھ تشویش ہوئی۔ شاید اس لیے کہ میں  پاکستانی سیاست کی قلابازیوں  اوراہل اقتدار کی ہوس کااتنا عادی ہوچکا تھا کہ ان کے بارے میں  گفتگو کرنا وقت کاضیاع سمجھتا تھا جن حالات پر آپ کاکچھ اختیار نہ ہو ان کے بارے میں  سوچنے سے فائدہ۔ اتوار کی صبح کوپارک میں   چپ تھی۔
البتہ اس چپ کے قفل کوسامنے سے آتے دوسیرکرنے والوں  نے توڑا اور میں  ان دونوں  حضرات سے واقف نہ تھا مجھے نہیں معلوم کہ انہوں  نے  صرف مجھے ہی کیوں  مخاطب کیا ایک صاحب جو ذرا دراز قد تھے سرجھکائے چلے آرہے تھے میرے قریب سے گزرتے ہوئے کہنے لگے “تارڑ صاحب اٹ از اے بلیک ڈے فارپاکستان” انہوں  نے میرے ردعمل کاانتظار نہ کیااورچلے گئے ورنہ میں  ان سے کہتا کہ جناب آپ کس سلسلے میں  اتنے رنجیدہ ہورہے ہیں  کیا آپ اس ملک کے استحکام میں  دلچسپی نہیں رکھتے۔ آپ کوتو جنرل صاحب کاشکر گزار ہونا چاہیے کہ انہوں  نے عین وقت پرپاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچالیا،خود بھی بچ گئے اور ہمیں  بچالیا۔ اب اگر بقول چوہدری شجاعت کے انہیں ایک جج نے خبرکردی تھی کہ فیصلہ صدرصاحب کے خلاف آرہا ہے تو  انہوں   نے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا مجرموں  کوچھوڑاتو نہیں جاسکتا آخر ملک کے لاء اینڈآرڈر کادفاع تو کرنا تھا لاء کادفاع تو پھرایمرجنسی کے ساتھ ہی ہوسکتا تھا چنانچہ میں  نے ان صاحب کی عقل پرماتم کیا جو اس صبح پرنور کوبلیک ڈے فارپاکستان کہہ کرچلے گئے میری سیر کاخاتمہ بالخیر ہورہاتھا اور میں  اپنے ساتھیوں  کوزیبرے اورگدھے  کے درمیان جوفرق ہے وہ سمجھا رہاتھا کہ دوسری جانب سے ایک اورصاحب اپنے ساتھیوں  سے الگ ہوئے اورمیری جانب آکر پہلے مجھ سے ہاتھ ملایا اورپھر کہنے لگي”بہت افسوس ہوا”
میں  نے پوچھا”کس بات کا؟”
کہنے لگے”مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی پر اتنا افسوس نہ ہوا تھا جتنا اب ہوا ہے”
یہ کہہ کروہ بھی رخصت ہوگئے لیکن میری صبح کاستیاناس کرگئے۔
سیر کے بعد جب تمام دوست سستانے کی خاطر پارک کے ایک مخصوص کونے میں آبیٹھے تب بھی صورتحال کشیدہ ہی رہی میں  نے کچھ چمکنے کی کوشش کی لیکن اس کاکچھ اثر نہ ہوا تھوڑی دیربعد بھٹی صاحب نے پارک کی کینٹین کے ویٹر کواپنی جانب متوجہ کیا”اوبھائی صاحب یار ذرا اچھی سی چائے تو بنواکرلاؤ اورساتھ میں بسکٹوں  کاایک ڈبہ بھی” اس پرچوہدری صاحب اٹھ کھڑے ہوئے” بھٹی صاحب چائے رہنے دیں  آج موڈ نہیں ” اورپھر سرجھکا کرپارک سے نکل گئے۔ حاجی صاحب ہر اتوار کو حلوائی بسے کی برفی کاایک ڈبہ دوستوں  کیلئے لاتے ہیں  چنانچہ انہوں  نے میز پررکھے ڈبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا”چلو پھر برفی تو کھالو” شیخ ندیم نے اٹھ کربرفی کاڈبہ کھولا  اس میں سے ایک ڈلی اٹھانے کوتھے کہ رک گئے اورڈبے کے اندر غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگي”اوہو برفی پرتو چیونٹیاں  چڑھی ہوئی ہیں اوروہ بھی بھوری چیونٹیاں  جوبہت زہریلی ہوتی ہیں “
“یہ چیونٹیاں  کہاں سے آگئیں ” حاجی صاحب حیران ہوکر بولے”اس برفی کونہ کھائیے میں  کل اوربرفی لے آؤں گا”
” اس پر بھی چیونٹیاں  چڑھ جائیں گی حاجی صاحب” سردار صاحب کہنے لگے”چیونٹیاں  تو میٹھے کی شوقین ہوتی ہیں “
“پہلے اوربات تھی اب اوربات ہے چیونٹیاں  ساری برفی کھاکر ہی دم لیں گی جب تک ڈبہ خالی نہیں ہوجاتا وہ اس کی جان نہیں چھوڑیں گی”
اگرچہ اتوار  کے روز چھٹی کی وجہ سے بیشتر سیرکرنے والے دیر تک پارک میں  بیٹھے گپیں لگاتے  رہتے ہیں  لیکن اس روز ایسا نہ ہوا لوگ سرجھکائے گھروں  کوچلے گئے۔
 اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں  کہ ایمرجنسی کے نفاذ پر میرا کیا ردعمل ہے تو میں  کہوں گا کہ مجھے تو بے حد مسرت ہوئی ہے میں  نہ طنز کررہاہوں  اورنہ ہی کوئی رمزکنایہ استعمال کررہاہوں  دل پر ہاتھ رکھ کرسچ کہتاہوں  کہ مجھے بے حد خوشی ہوئی ہے اگر میں  یہ عرض کروں  کہ پچھلے کئی برسوں  سے میں  کبھی اتنا خوش نہیں ہوا جتنا اس ایمرجنسی کے نفاذ پر ہواہوں ۔ اگرچہ  میں بنیادی طورپر امید بہار رکھنے والا شخص ہوں  لیکن ملکی حالات نے بے ایمانی اوربے ضمیری نے،بے حسی نے مجھے قنوطی بنادیا تھا میں سمجھتا تھا کہ اس قوم میں  کوئی ایک بھی باضمیر شخص نہیں رہا کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں  رہا سوائے ایدھی صاحب کے جس کا میں احترام کرسکوں ۔ وہ آئے اور میں  کھڑاہوکر اس کااستقبال کرسکوں  اوراب ایک عجیب معجزہ رونماہوگیا ہے اس ایمرجنسی کی کرامت سے ایک نہیں  کم ازکم75 شخص ایسے ظاہر ہوئے ہیں  جن کے استقبال کیلئے میں  تاعمر کھڑا رہ سکتاہوں  ۔ ان کاشکریہ ادا کرنا چاہوں تو میرے آنسو نہیں رکتے  کہ انہوں  نے میری ناامیدی کوامید میں بدل دیا ہے۔ یہ ملک اب   اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹ سکتا۔  یہ قائم رہے گا کہ یہاں  ایسے باضمیر لوگ موجود ہیں  اوران میں سے ہرایک کے ہاتھ میں  ایک چراغ ہے جس کی روشنی میں  ہم اب اپنا تابناک مستقبل دیکھ سکتے ہیں  اورپھر سے امید کرسکتے ہیں  پاکستان کیلئے یہ ایک سیاہ دن نہیں ہے کہ یہ تو ایک ایسادن ہے جب ہرجانب چراغاں  ہورہاہے ہمارے بدصورت ہوچکے چہرے ان چراغوں  کی روشنی میں پھرسے خوبصورت ہوگئے ہیں  جسٹس افتخار چوہدری اورجسٹس بھگوان داس اوران  کے ساتھیوں  کاشکریہ اورایمرجنسی ،آپ کاتو بہت بہت شکریہ۔

Tarar Namaa1

کتاب سے دوسری تحریریں:

غربت کے ہاتھوں  میں  کبھی اخلاقیات کی کتاب نہیں ہوتی کیونکہ یہ ہاتھ دوسروں  کے آگے پھیلے ہوتے ہیں  خالی ہوں تو کوئی کتاب تھامیں  ۔۔۔
تو میں  ایک ناگوار بیزاری کی حالت میں  ازاربند اڑھستا،سلیپر گھسیٹتا باہر آیا کہ شاید ڈاکیہ تھا یا کوئی فقیر… گیٹ کھولا تو سامنے عینی ۔۔۔