آندھیوں میں چراغ
صبح کی سیر کے دوران میرے ساتھ ٹریک پرچلنے والے اوربعد میں پلاسٹک کی کرسیوں پر استراحت فرمانے والے جتنے بھی ساتھی ہیں وہ قابل فہم طورپر سیاست اور مذہب کے حوالے سے اپنا اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں جس کااظہار وہاں تک جائز ٹھہرتا ہے جہاں تک کہ دوسرے کے نظریات کوٹھیس نہ پہنچے۔ […]
غربت،جوتے اورکھانا گھر
غربت کے ہاتھوں میں کبھی اخلاقیات کی کتاب نہیں ہوتی کیونکہ یہ ہاتھ دوسروں کے آگے پھیلے ہوتے ہیں خالی ہوں تو کوئی کتاب تھامیں یادعا کیلئے اٹھیں ۔ غربت کاکوئی مذہب نہیں ہوتا کہ وہ اسی دنیا میں جہنم آشنا ہوجاتی ہے تو پھر باقی کون سا ڈر رہ جاتاہے۔ مجھ پر ہمیشہ اللہ […]
ادب کا تاج محل فنا ہوتا ہے
تو میں ایک ناگوار بیزاری کی حالت میں ازاربند اڑھستا،سلیپر گھسیٹتا باہر آیا کہ شاید ڈاکیہ تھا یا کوئی فقیر… گیٹ کھولا تو سامنے عینی آپا کھڑی تھیں ایک چاکلیٹ کیک کا ڈبہ ہاتھوں میں تھامے میرے گھر کے باہر کھڑی تھیں ۔ کبھی ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ۔بے شک میرے گھر […]