تو میں ایک ناگوار بیزاری کی حالت میں ازاربند اڑھستا،سلیپر گھسیٹتا باہر آیا کہ شاید ڈاکیہ تھا یا کوئی فقیر… گیٹ کھولا تو سامنے عینی آپا کھڑی تھیں ایک چاکلیٹ کیک کا ڈبہ ہاتھوں میں تھامے میرے گھر کے باہر کھڑی تھیں ۔
کبھی ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں ۔
بے شک میرے گھر میں کچھ جانے پہچانے مشہور لوگ آئے جن کی شہرت کی دھوم تھی وہ آئے پر قرۃ العین حیدر جیسا تو آج تک نہ آیا تھا۔ بہت عرصہ بعد ایک عید کے موقع پر منیر نیازی ایک دوست کا سہارا لے کر میرے گھر پہنچے تو مجھے عینی آپا یاد آ گئیں ۔
انہوں نے کچھ وقت میرے گھر میں گزارا۔ میں ان کی آمد کا شکریہ ادا کرتا تو وہ موضوع بدل دیتیں اور دیواروں پر آویزاں تصاویر کے مصوروں کے بارے میں دریافت کرنے لگتیں اور پھر چائے وغیرہ کے بعد کہنے لگیں تمہارے پاس کیمرہ نہیں ہے اپنے بچوں کے ساتھ میری تصویر اتارو خاص طور پر عینی کے ساتھ۔
ان کی کزن مسز حیدر ان کے ہمراہ تھیں وہ ان دنوں لاہور کالج میں پڑھاتی تھیں اور عینی شادمان میں ان کے فلیٹ میں ٹھہری ہوئی تھیں مسز حیدر کچھ عرصہ کے بعد انتقال کر گئی تھیں ۔
ایک روز میرے ذمے یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ میں عینی آپا کو قدیم لاہور کی گلیوں میں لے جاؤں اور انہیں اس شہر کی ثقافت اور روایت کے بارے میں آگاہ کروں اورمیں نے یہ ذمہ داری بخوشی قبول کی اور ہم لوہاری دروازے میں سے قدیم شہر میں داخل ہو گئے میں نے کوشش کی کہ انہیں ناشتے کے طور پر نہاری یا سری پائے وغیرہ کھلاؤں لیکن وہ مائل نہ ہوئیں ۔ اپنی ساڑھی سنبھالتی، لپ سٹک درست کرتی، وہ ایک بچے کی حیرت کے ساتھ قدیم عمارتوں اور حویلیوں کو دیکھتی تھیں اور ایسے سوال کرتی تھیں جن کا جواب میری محدود معلومات کے پاس نہ تھا۔
قدیم لاہور کے گلی کوچوں میں قرۃ العین حیدر کے ساتھ ایک دن گزارنا کیسا فرط انگیز اور روحانی تجربہ تھا اس کا بیان کیسے ہو۔ ہم خاص طو پر “فقیر خانہ میوزیم” گئے عینی آپا تو بس مسحور ہو گئیں انہوں نے ایک ایک منی ایچر تصویر غور سے دیکھی اور مجھے بتایا کہ ان تصویروں میں کون لوگ ہیں ۔
“دیکھو اس تصویر میں سلطان کے باڈی گارڈز میں جو تمہیں مرد نظر آتے ہیں وہ دراصل عورتیں ہیں ۔ نہایت جنگجو اور ہتھیاروں کے استعمال میں نہایت کاری وہ مردوں کے مانند چمڑے کی پتلونیں پہنے ہوئے ہیں اور ان کا نشانہ خطا نہیں ہوتا”۔
میوزیم کے انچارج نے ہمیں ایک قدیم لبادہ دکھایا جس پر آیات قرآنی نقش تھیں اور عینی آپا نے انچارج کی معلومات میں اضافہ کیا اس لبادے کے اندر پورا قرآن پاک لکھا ہوا ہے۔ جب کبھی سلطان میدان جنگ میں اترتا تھا تو اس لبادے کو پہن کر دشمن کا سامنا کرتا تھا۔
عینی آپا نے ایک بھاری تسبیح کے بارے میں بھی میوزیم کے انچارج کو بتایا کہ یہ تسبیح کیسے بنائی گئی اور اس کا ورد کیسے کیا جاتا تھا۔
گلی کوچوں میں چلتے ہوئے عینی آپا ہر کوچے ہرگلی میں جھانکتیں ، کوچہ تیر اندازی، کوچہ کمان گراں ، کوچہ چڑی ماراں اور ہر جھانک کے بعد کہتیں “مستنصر! یہ تو بالکل لکھنؤ ہے۔ وہی کوچہ و بازار اور ویسے ہی نام”۔
تو میں نے کہا تھا “عینی آپا لاہور اور لکھنؤ میں صرف ایک فرق ہے۔ لکھنؤ کب کا مر چکا، جبکہ لاہور ابھی زندہ ہے”۔
شائد انہیں میرے اس کومنٹ سے دکھ پہنچا ہو کہ وہ لکھنؤ کی تہذیب کی سب سے بڑی نمائندہ تھیں لیکن انہوں نے سرہلا کر میرے مؤقف کی تائید کی تھی۔
میں نے بہت عرصہ بعد جب اپنا ناول “روکو” لکھا تو عینی آپا کی اس لاہور کے قدیم گلی کوچوں کی یاترا کو اس میں شامل کیا اور ہاں ایک موہوم سی یاد ہے کہ عینی آپا نے یہ بھی کہا تھا کہ تمہارے پاس لاہور ایسا شہر ہے تو تم اس کے بارے میں کچھ کیوں نہیں لکھتے۔ شائد “روکو” میں جتنا لاہور ہے وہ عینی آپا کی دین ہے۔
جب عینی آپا کی اردو ادب میں سب سے بلند مقام پر فائز آپ بیتی “کار جہاں دراز ہے، شائع ہوئی تو ظاہر ہے میں اس کے مکالمے میں غرق ہوا” یہ آپ بیتی جب تک سمرقند اور بخارا کے شب و روز میں رہی تو سحرانگیز رہی لیکن جونہی عہد موجود میں داخل ہوئی تو اس کی اثر انگیزی میں کمی ہو گئی اور مجھے یہ واحد اعتراض ہوا کہ یہ کیا ہے کہ عینی آپا ان لوگوں کا تذکرہ تو کرتی ہیں جو ان کے فن سے مسحور ہوئے لیکن کہیں بھی یہ اقرار نہیں کرتیں کہ فلاں شخص کو دیکھ کر میرا دل بھی ایک لمحے کے لئے رکا۔ تو اس معاملے میں عینی آپا ڈنڈی مار گئیں ، تھوڑی سی بے ایمانی کر گئیں ۔ ان کو چاہنے والے اور اپنانے کی خواہش کرنے والے بے شمار تھے ہر کسی کی دال نہ گلی، اس نازک حوالے سے میں نے ایک بارمرحوم اعجاز بٹالوی سے دریافت کیا کہ اعجاز صاحب عینی آپا میں وہ کیا تھا کہ جب وہ پاکستان میں تھیں تو تقریباً ہر وہ شخص جو ان کے قریب آیا ان کا اسیر ہوا تو اعجاز صاحب کہنے لگے “تارڑ وہ زمانے ایسے تھے کہ مسلمان خواتین تو گھروں سے باہر قدم نہ رکھتی تھیں ۔ فنون لطیفہ سے رابطہ بہت کم تھا تو اس عہدمیں عینی آئیں وہ بے شمار خوبصورت تھیں ، خوش پوشاک تھیں اور بے شمار پڑھی بھی، کسی سسٹم پر بات کرتی تھی بلکہ کسی حد تک اپنے آپ کو ان کے عشق میں مبتلا ہو جانے والوں کو آپ موردالزام نہیں ٹھہرا سکتے”۔
اعجاز بٹالوی جو بھٹوکیس میں سرکاری وکیل تھے جب بمبئی گئے اور قرۃ العین حیدر سے ملاقات کی تو عینی آپا نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا کہ تم بھٹو کے قتل میں ملوث رہے ہو…۔
میری بیگم میمونہ کی موجودگی میں شفیق الرحمن نے عینی کے ساتھ لنڈن میں ہونے والی چند ملاقاتوں کا تذکرہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ عینی کھانے کے ساتھ مرچوں کی ایک پلیٹ کھا جاتی تھیں اور مسلسل ان کی آنکھوں میں نمی آتی جاتی تھی لیکن وہ مرچوں سے ہاتھ نہ کھینچتی تھیں … شنید ہے کہ شفیق الرحمن بھی امیدواروں میں سے تھے۔
چند برس پیشتر جب سارک ادیبوں کی کانفرنس میں شرکت کيلئے دلی جانا ہوا تو میرے ملاقاتی ایجنڈے پر صرف دو نام تھے۔ ایک امرتا پریتم جن سے کبھی ملاقات نہ ہوئی اور عینی آپا۔ فراز نے مجھے امرتا سے ملنے سے روک دیا اس کا کہنا تھا کہ وہ اتنی علیل ہیں کہ انہیں دیکھ کر تمہیں بہت دکھ ہو گا۔ یوں بھی ان کی پہچان ختم ہو چکی ہے اور جس روز عینی آپا نے اپنے ہاں کھانے کے لئے مدعو کیا اسی روز میں زندگی میں پہلی بار تاج محل دیکھنے جارہا تھا۔ کشور کہنے لگی کہ انہوں نے خاص طور پر تمہارا پوچھا تھا کہ اسے ضرور ساتھ لانا۔ میں نے معذرت کے ساتھ پیغام بھیجا کہ عینی آپا میں آپ کو ادب کے تاج محل کو دیکھ چکا ہوں تو اس دوسرے تاج کو بھی دیکھ لینے دیجئے اور اس لمحے مجھے کچھ گمان نہ تھا کہ میں انہیں کبھی دوبارہ نہیں مل سکوں گا۔
مجھ سے غلطی ہو گئی… دوسرے تاج محل نے تو موجود رہنا تھا اسے بعد میں دیکھا جاسکتا تھا اور اس تاج محل نے فنا ہوجانا تھا اور اسے پھر کبھی نہ دیکھنا تھا۔
میری زندگی کی ایک بڑی خوشی عینی آپا کے نئے ناول کا انتظار کرنا اور اسے پہلی بار پڑھنا تھا۔ اب وہ خوشی بھی ہمیشہ کے لئے خاک ہوئی۔
