سرد خانے کا ملازم

جب غفور نے لاش وصول کی، وہ بری طرح تپ رہی تھی! وہ چونکا ضرور، لیکن حیران ہونے سے باز رہا۔ اور ایسا کرنا مشکل نہیں تھا، سردخانے کے درودیوار حیرت چُوس لینے کے عادی تھے۔ اور پھر۔۔۔ مُردے پر چڑھا تپ امکانی تھا کہ آج گرمی کچھ زیادہ تھی! لیکن جب انچارج کی جانب […]

سسکتی ہوئی قلقاریاں

اس کی چھاتیوں میں زندگی تھی، جو اسے تکلیف دیتی، قطرہ قطرہ ٹپکتی، سینہ بند گیلا کرتی، نشان چھوڑتی، اور باقی رہتی۔ اس کا سینہ بھرا ہوا تھا۔ کاندھے جھکے تھے۔ وہ درد میں مبتلا تھی۔ اس رس کے سبب، جو اس کے سینے کا ابھار تھا، وہاں جوش مارتا تھا۔ جسے نئی نسل کی […]

ایک پاگل کہانی

جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا! […]

ایک کال سینٹر ایجنٹ کی سرگزشت

اس کی موت کے تین روز بعد، یک دم اس احساس نے آن گھیرا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ میں اس امر سے واقف تھا کہ یہ جذبہ میری ذلت کا باعث بن سکتا ہے، سو میں اس سے جوجھنے لگا۔ اور یہی سے نیستی کا آغاز ہوا۔ بدقسمتی کسی کیمیائی عمل کے […]

چاند ماموں

یہ ان بیتے ہوئے دنوں کا قصّہ ہے، جب تاروں بھرا آسمان ہمارا تھا۔ ہم چاند کو مٹھی میں بند کرلیتے۔ ہوائیں چکھنے کے لیے چہرہ رضائی سے باہر رکھتے۔ تاریکی میں دُور کہیں مونگ پھلی والا آواز لگاتا۔ کتے کچھ دیر بھونک کر چپ ہوجاتے۔ اور کوئی زور سے کھانستا۔ ابھی ہماری گلی میں […]

چھنال

مون سون کی پہلی بارش والے روز اس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا، اور وہ چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی۔ صبح سے آسمان پر بادل تھے۔ وہ بے خیالی میں اس چیل کو تک رہی تھی، جو ہوا میں تیرتی معلوم ہوتی۔ کچھ دیر بعد چیل غوطہ لگا کر منظر سے غائب […]